کرپشن خود بولتی ہےکرپشن کرپشن

اکتوبر کی 31 تاریخ سال 2011 میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں ایک صوبائی ادارے کی کرپشن کا احوال پیش کیا تھا۔ اب اسی کی کڑی میں ایک اور ایسے ترقیاتی ادارے کی کرپشن کی آواز آپ تک پہنچانے کی جسارت کر رہا ہوں۔

 

ایکسپریس نیوز 4 جنوری 2012 کے ایڈیشن میں وزارت ہاوسنگ و تعمیرات کے ادارے پاک پی ڈبلیو ڈی کے بارے ایک رپورٹ جاری ہوئی ہے۔ جس میں ٹھیکیدار وں نے پاک پی ڈبلیو ڈی کے خلاف 40 فی صد فنڈ کے  کرپشن کی نظر ہونے کا اقرار کیا ہے۔

اس سے پہلے پبلک ہیلتھ کے ادارے کے بارے میں مضمون لکھا تھا جس  کی تفصیل کچھ اس طرح تھی۔

ٹیکس ،منظم کرپشن اور غیر معیاری ترقیاتی منصوبہ جات

سب سے پہلے ٹینڈر طلب کئے جاتے ہیں۔ ٹینڈر طلبی کے بعد مختلف ٹھیکیدار صاحبان کے ٹینڈرز منظور کئے جاتے ہیں۔ ٹینڈر کی منظوری کے  ساتھ ہی بازار کرپشن  کھل جاتا ہے۔ ٹینڈر جس ٹھیکیدار کو دیا جاتا ہے۔ اس  ٹھیکیدار نے تخمینہ لاگت کا تقریباً 10 فی صد اس ایم این اے یا  ایم پی اے کو ادا کرنا ہے جس نے وہ فنڈ دیا ہے۔ اس کے بعد 5 سے  7 فی صد ایکسین صاحب کو تخمینہ لاگت کا ادا کیا جاتا ہے۔  ان مراحل کے بعد پراجیکٹ پر کام شروع ہو جاتا ہے۔ جوں جوں پراجیکٹ پر کام ہوتا جاتا ہے۔ ساتھ ساتھ مکمل ہوئے کام کا بل بنتا جاتا ہے۔ اس بننے والے بل پر  3 فی صد ایس ڈی او صاحب اور 3 فی صد ہی اوو سئیر صاحب کو دیا جاتا ہے۔ پھر یہی بل جب کلرک صاحب یعنی اے ایس ڈی سی کے پاس پہنچتا ہے۔ تو اس کو بھی ہر بل پر 1 فی صد ادا کیا جاتا ہے۔ یوں یہ سارا عمل بغیر کسی تگ و دو اور نشکل ایمانداری کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے۔

 

جبکہ اسی طرح کی منظم کرپشن اس ادارے میں بھی کی جاتی ہے۔ جس کی تفصیل ایکسپریس اخبار والوں نے کچھ اس طرح سے بیان کی ہے۔

 

کیا کہیں جناب یہاں جو بھی ترقیاتی ادارہ کنگھال کر دیکھیں اسی میں کرپشن کی جڑیں نظر آتی ہیں۔ جن کی بنیاد پر تناور کرپٹ ادارے لہلہلا رہے ہیں۔

1 Comment

  • comment-avatar
    افتخار اجمل بھوپال January 6, 2012 (2:33 pm)

    اگر آپ وہ ادرارے بتا دين کہ جہاں کرپشن نہيں ہے تو کام آسان ہو گا اور جلد ختم ہو جائے گا ۔ اس طرح آپ کس کس ادارے کا بتائيں گے ۔ يہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ جو حرام کھانے کی عملی مخالفت کرتا ہے اُسے آجکل بيوقوف کہا جاتا ہے کم از کم مجھے تو ملازمت کے دوران لوگ اسی نام سے ياد کرتے تھے

راقب