مرد بننا ہے یا کتا؟

وجود انسانی جس کو دو جنسوں میں پیدا کیا گیا ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات کو دیکھا جائے تو ایک جنس دوسری جنس سے پیدا کی گئی ۔ جیسا کہ آدم کی پسلی سے حوا کی پیدائش ۔

سورۃ النسا آیت نمبر 1

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُواْ اللّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا(1) اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوٰی اختیار کرو)، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے

اس بنا پر عورت کی عزت و تکریم اور حفاظت مرد پر فرض   سے بھی زیادہ ہے۔ ہمارا معاشرہ میڈیائی یلغار اور گھریلو تربیت کے فقدان کے باعث انحطاط کا شکار ہے۔ اس میں  اب روز بروز ایسے واقعات و سانحات جنم لے رہے ہیں۔ جس کی بنا پر انسانی روح تک کانپ جاتی ہے۔ انسانی روح کے کانپنے کا اگر کسی پر اثر نہیں ہوتا تو گزشتہ روز کے زمینی کپکپاہٹ کی وجہ سے اللہ کا خوف ضرور جاگا ہو گا۔

معاشرے میں جنسی بے راہ روی اس قدر اُمڈ آئی ہے کہ اس کے روک تھام کے لئے ہمارے ریاستی ادارے اور حکمران خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کا معاشرے پر اثر و نفوذ کے باوجود بھی میڈیا میں نا اہل اور دولت کے پجاری کبھی معاشرے کی اصلاح کے پہلو کا بیڑہ نہیں اٹھاتے ۔

گزشتہ دنوں مجھے ایک گاؤں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ سردیوں کے موسم کی وجہ سے دھند بھی کافی زیادہ تھی اور دیہاتوں میں بچے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مساجد وغیرہ میں  جاتے ہیں ۔ میں بھی جب باہر نکلا تو میرے آگے آگے دو بچیاں جن کی عمریں تقریباً 8 سے 12 سال کے درمیان ہوں گی  گزر رہی تھیں ہمارے درمیان کچھ فاصلہ تھا۔ وہ ایک جگہ رک گئی اور سامنے کھڑے کتے کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ اور جونہی میں قریب پہنچا تو وہ میرے پیچھے پیچھے میری آڑ لئے وہاں سے اپنی منزل کی طرف گزر گئیں۔ میرے دل میں اس وقت خیال آیا۔ ایک ایسا وجود جو مرد کو اپنا محافظ سمجھ رہا ہے۔ نہ میں ان کا کوئی جاننے والا نہ کبھی مجھے انہوں نے دیکھا پھر ان کے شعور نے مرد ذات کو محافظ کے طور پر ان کے سامنے پیش کیا۔ تو مرد کیسے اپنی ذات کو کتوں کے مقام پر لاکھڑا کرنا چاہتا ہے۔ جہاں یہ معصوم و مظلوم وجود اسے اپنا محافظ سمجھنے کی بجائے اسےاپنا دشمن تصور کر لے۔

1 Comment

  • comment-avatar
    naila February 1, 2018 (9:53 am)

    غیرت جگا نے کی بوہت اعلی کاوش ہےمگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔