سوشل میڈیا فسادات روکنے میں مددگار

برطانیہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے اولمپکس کے لیے مقررہ مقامات اور لندن کی آکسفورڈ سٹریٹ پر فسادات کے نئے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ان حملوں کی اطلاع سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے ذریعے ملی۔

اسسٹنٹ پولیس کمشنر لین اوینز نے بتایا کہ میٹروپولیٹن پولیس کے بعض افسران کو ان ممکنہ حملوں کا اندازہ ٹوئٹر اور بلیک بیری پر بھیجے جانے والے پیغامات ہوا۔

تاہم قائم مقام کمشنر ٹِم گڈوِن کا کہنا ہے کہ وہ سوچ رہے ہیں کہ حکام سے سماجی رابطے کی سائٹس کو بند کرنے کو کہیں۔

ٹوئیٹر اور بلیک بیری میسینجر کے ذریعے یہ انٹیلیجنس اطلاع ملی کہ اولمپکس کے لیے مقررہ مقامات ویسٹ فیلڈز (شاپنگ سنٹرز) اور آکسفورڈ سٹریٹ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے

اسسٹنٹ پولیس کمشنر، لین اوینز

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے انٹیلی جنس مہیا کر رکھی ہیں تاہم یہ بھی گمراہ کن ہو سکتی ہیں۔

برطانیہ میں بیشتر سیاستدانوں، میڈیا کے تبصرہ نگاروں اور پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ٹوئٹی اور بلیک بیری کے پیغامات نے برطانیہ میں ہوئے حالیہ فسادات میں اہم کردار ادا کیا۔

بلیک بیری پیغامات کا نظام نوجوانوں میں بہت مقبول ہے کیونکہ یہ نجی اور محفوظ طریقہ ہے جس کے تحت صارفین کو ایک مخصوص پن نمبر کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ایک مرتبہ رابطہ ہو جانے کی صورت میں پیغامات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔

 

اسسٹنٹ پولیس کمشنر لین اوینز نے داخلہ امور کی کمیٹی کو بتایا کہ ’ ٹوئٹر اور بلیک بیری میسنجر کے ذریعے یہ انٹیلیجنس اطلاع ملی کہ اولمپکس کے لیے مقررہ مقامات ویسٹ فیلڈز (شاپنگ سنٹرز) اور آکسفورڈ سٹریٹ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے‘۔

سوشل میڈیا فسادات روکنے میں مددگار۔ بی بی سی اردو سروس

1 Comment

  • comment-avatar
    مطلوب August 18, 2011 (3:58 pm)

    انٹرنیٹ اور سماجی رابطے کی سائیٹس اتنی دخیل تو ہو چکی ہیں کہ لمحوں میں لوگ گمراہ بھی ہو سکتے ہیں اور مطمعن بھی۔ بالکل فلمی سچوئشن سی لگتی ہے