سدھارتھ گوتم سے بدھا تک کا سفر

سدھارتھ گوتم جسے بعد میں بدھا کہا گیا۔ اس کی کہانی قصوں سے اس قدر لبریز ہے کہ ہمیں اس کے واقعی وجود کے متعلق شک ہونے لگتا ہے۔ ایک قصے نے اسے کنواری ماں کا بیٹا قرار دیا۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اس نے خود ملکہ مایا کے پہلو کو کھولا ، کوکھ میں داخل ہوا اور دس ماہ تک وہاں رہنےکے بعد باہر نکلا

“ناپاک رطوبتوں سے بالکل پاک ” ،  لیکن ” سیڑھیاں اترتے ہوئے آدمی کی طرح ” اور ” موتی کی طرح چمکتا ہوا۔”

بایں ہمہ اس کا باپ ہمالیہ کے نزدیک کپل وستو کا بادشاہ تھا۔ بدھ کا نام سدھارتھ گوتم رکھا گیا۔ اسےہر قسم کی آسائش کے علاقہ دکھ اور تکلیف سے دور رکھا گیا، پانچ سو خوب صورت دوشیزاوں میں سئے اس کے لئے بیوی منتخب کی گئی۔ وہ ایک مسرور باپ بنا اور امن و آشتی کی زندگی گزاری۔

ایک روایت کے مطابق کسی روز وہ اپنے محل سے نکل کر گلیوں بازاروں میں گیا اور بوڑھا شخص دیکھا۔ ایک اور دن اس نے باہر نکل کر ایک بیمار آدمی کو دیکھا۔ تیسرے موقع پر اسے ایک مردہ آدمی نظر آیا۔ اس نے بعد میں وضاحت کی ، ” یہ چیز مجھے موزوں نہ لگی۔ میں نے غوروفکر کیا اور میری ساری جوانی کی مسرت غائب ہو گئی۔۔۔۔۔۔ اس لئے ، اے بھکشوؤ! ۔۔۔۔ میں نے خود بھی جنم لیا اور جنم کی فطرت تلاش کی ؛ میں خود بھی بڑھاپے کا شکار بنا ، اور میں نے بڑھاپے ، بیماری ، دکھ اور ناپاکی کی نوعیت تلاش کی۔ پھر میں نے سوچا: اگر میں جنم لینے کے بعد جنم کی فطرت تلاش کروں ۔۔۔۔۔ اور جنم کی فطرت کی لاچاری کو دیکھنے کے بعد غیر مولود اور نروان کے مطلق سرور کی جسجو کروں تو کیا ہوگا؟”

اس نے اپنے باپ ، بیوی ، اور نومولود بیٹے کو چھوڑ کر بنیادی سچائی کا متلاشی راہب بننے کا عزم کر لیا۔

وہ چھ برس تک بیج اور گھاس کھا کر گزارہ کرتا رہا۔

“تب میں نے سوچا کہ کیوں نہ تھوڑی سی مقدار میں ، مٹھی بھر کھانا کھا لیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔ میرا جسم نہایت نحیف اور دبلا ہو گیا ۔ خوراک کی کمی کے باعث میرے چوتڑوں کا نشان اونٹ کے نقش پا جیسا تھا ۔۔۔۔۔۔ میں نے خود کو کچھ راحت دلانے کا سوچا تو تھوڑا تھوڑا کھانے لگا۔”

لیکن ایک روز گوتم کے زہن میں خیال آیا کہ خود اذیتی درست راہ نہیں ۔ اس نے ادراک کیا کہ ان ریاضتوں سے اسے کوئی نئی بصیرت نہیں ملی؛ اس کے برعکس خود کو اذیت دینے کے ایک مخصوص غرار نے کسی بھی ممکنہ تقدس کو زہر آلود بنا دیا تھا۔ اس نے رہبانیت چھوڑ دی اور ایک درخت کے سائے تلے جا بیٹھا۔ ( ‘ بودھی درخت ‘ جو اب بھی سیاحوں کو دکھایا جاتا ہے۔)۔ اس نے عزم کیا کہ نروان حاصل ہو جانے تک یہاں سے نہیں اٹھے گا۔ گوتم نے خود سے سوال کیا کہ انسانی دکھ ، بیماری، بڑھاپے اور موت کا منبع کیا تھا؟ اس نے ایک رویا میں لاتعداد جنموں اور اموات کا سلسلہ دیکھا۔ اس نے نتیجہ اکذ کیا کہ جنم تمام برائی کی جڑ ہے۔

جنم کا سلسلہ رک کیوں نہیں جاتا؟ کیونکہ قانون کرم دوبارہ جنم کا تقاضا کرتا ہے۔ تا کہ روح سابقہ جنموں کے برے اعمال کا کفارہ ادا کر سکے۔ تاہم ، اگر کوئی شخص کامل انصاف ، بلا تکان صبر اور سب کے لئے ہمدردی کی زندگی جئیے؛ اگر اپنے خیالات کو ابدی چیزوں کے ساتھ منسلک کر سکے اور دل کو عارضی چیزوں میں نہ لگائے تو وہ دوبارہ جنم سے چھٹکارا پا سکتا ہے۔ اس کے لئے برائی کا سوتا خشک ہو جائے گا۔ اگر کوئی شخص اپنے لئے تمام خواہشات کرتے ہوئے بھی صرف سب کے ساتھ اچھائی کرے تو انفرادیت ۔۔۔۔۔ نوع انسانی کا بنیادی واہمہ۔۔۔۔۔۔ پر فتح پانا ممکن ہے۔ انجام کار روح لاشعور لا متناہیت میں ضم ہو جائے گی۔ وہ دل کیسا پر سکون ہے، جس نے خود کو تمام ذاتی خواہشات سے پاک کر لیا ہو! ۔۔۔۔۔ اور کونسا ایسا دل ہے جو اس کے بغیر قرار پاسکے؟ مسرت نہ تو یہاں ممکن ہے ، صرف خواہشات کا سرد پڑ جانا ۔ چنانچہ ، سات سال تک مراقبہ کے بعد گوتم نوع انسانی کو نروان کی تعلیم دینے کھڑا ہوا۔

جلد ہی اس کے شاگرد جمع ہو گئےجو ساتھ ساتھ شہر در شہر اور اس کی تعلیمات سنیں ۔ وہ گوتم پر بھروسہ رکھتے تھے، کیونکہ اسے اپنی کوئی فکر نہیں تھی، اور برائی کے جواب میں ہمیشہ اچھائی کرتا ۔ اس نے شاگردوں کو سمجھایا: ” غصے پر نرمی سے اور برائی پر اچھائی سے غلبہ حاصل کرو۔۔۔۔۔۔ نفرت ہر گز نفرت کو ختم نہیں کر سکتی؛ نفرت صرف محبت سے ختم ہوتی ہے۔” اس نے کل کا خیال دل سے نکال دیا، بلکہ کسی مقامی مداح سے کھانا مانگ کر کھانے پر قانع رہا؛ ایک مرتبہ اس نے ایک طوائف کے گھر پر دعوت کھائی۔ شاگردوں نے اس کا نام بدل کر “بدھ” یعنی جاگا ہوا یا بیدار رکھ دیا۔ مگر اس نے کبھی بھی کسی دیوتا کا اوتار ہونے کا دوی نہ کیا۔ اس نے تمثیلات کے ذریعہ اخلاقی تعلیم دی، پھر پانچ جملوں پر مشتمل ہدایات دیں:

کوئی شخص جاندار چیز کو ہلاک نہ کرے،

کوئی ایسی چیز نہ لو جو تمہیں نہیں دی گئی؛

جھوٹ نہ بولو؛

نشہ آور مشروب نہ پئو؛

بدکاری نہ کرو۔

یہ ” پانچ اخلاقی اصول” تمام جنسی افعال یا خواہشات سے منع کرتے ہیں۔

ماخذ:

Heroes of History

Will Durant

ترجمہ: یاسر جواد

No Comments