روایتی اور دور حاضر کی سواریاں اور ہمار ےمحکمے

دنیا میں ہر دور میں سفر ہوتے رہے ہیں اور ان مسافتوں کو طے کرنے کے لئے ہر دور میں مختلف قسم کی سواریاں استعمال کی جاتی رہی ہیں۔ اگر ہم ماضی کو کھنگالیں تو ان میں کچھ سواریاں ایسی ہیں جو آج بھی ہمارے معاشرے میں کارآمد ہیں۔پاکستان کے شہروں اور دیہاتی علاقوں میں بھی روایتی سواریاں استعمال کی جارہی ہیں۔ جن میں سب سے پرانی اور سستی سواری تانگہ کہلاتی ہے۔ جو کہ ملک کے طول و عرض میں استعمال ہوتی تھی۔ لیکن اب وقت کے ساتھ اس کے استعمال میں کمی آگئی ہے۔

تانگہ کی سواری

تانگہ کی سواری کا زوال اس وقت شروع ہوا، جب موٹر سائیکل کے پیچھے ایک چھ سواریوں والی تانگے کی شکل ایک باڈی لگا دی گئی۔ جس سے سفر جلدی اور تھوڑا سا ماڈرن انداز اپنا گیا۔

جوں جوں ان موٹر سائیکل رکشوں (چنگ چی ، چاند گاڑی) کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ہے۔ توں توں تانگہ کی سواری کا رجحان کم ہوتا گیا۔

چنگ چی رکشہ

ان موٹر سائیکل رکشوں کے علاوہ اسی قسم کے بڑے رکشے پیٹر انن کی مدد سے کچھ رکشے بنائے گئے جو کہ وزن ، اور زیادہ مسافروں کو اٹھا سکتا تھا۔ بھی بنائے گئے جو دیہاتی علاقوں میں عام استعمال ہو رہے ہیں نے تانگی کی سواری کا دیہاتوں میں بھی قلع قمع کر دیا۔ اور یوں تانگہ کی سواری مخدوش ہو کر رہ گئی ہے۔

پیٹر انجن رکشہ

ان سواریوں کے استعمال سے جہاں بہت سہولت ہے وہاں ان سواریوں کے بے ضابطہ استعمال نے معاشرے میں بے گاڑ بھی پیدا کئے ہیں۔

گوجرانوالہ  شہر میں ہزاروں کی تعداد میں موٹر سائیکل رکشہ اور پیٹر انجن رکشہ چل رہے ہیں جن سے روزانہ لاکھوں کی تعداد میں مسافر سفر کر رہے ہیں۔

ان رکشوں کی بناوٹ اور ان رکشوں کی تعداد میں اضافہ رات بھر میں نہیں ہو گیا۔ بلکہ سالوں پر محیط یہ سفر ان سواریوں نے طے کیا ہے۔ اور اب جب یہ معاشرے کی ضرورت بن گئے ہیں تو انہیں اب ختم کرنے کے لئے مختلف ادارے حرکت میں آگئے ہیں۔ کبھی سیکیورٹی رسک ، کبھی حادثات اور کبھی ٹریفک میں خلل کا بہانہ۔

احتجاجی ریلی موٹر سائیکل رکشہ

ایسی تمام سواریاں ختم کر دینی چاہیں جو کہ حادثات کا باعث بنتی ہوں اور خلاف ضابطہ چل رہی ہوں۔ مگر ان کے متبادل کا بھی پہلے کچھ نہ کچھ ضرور سوچنا چاہیے۔ اب ایک حکم کے زریعے ان موٹر سائیکل رکشوں اور پیٹر رکشوں کو بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گوجرانوالہ میں واحد  سفر کی سہولت سٹی ٹور بس سروس ہے۔ جس کی غاڑیوں کی تعداد اتنی نہیں ہے کہ شہر بھر کی ضرورت کو پورا کر سکے۔ اور یہ بس سروس صرف جی ٹی روڈ پر چلتی ہے۔ اگر یہ موٹر سائیکل رکشے بند ہوں گے تو دوسرے رکشے جو کہ تین سواریوں تک کو اٹھا سکتے ہیں من مانے کرایے وصول کرنا شروع ہوں گے جو اس مہنگائی کے دور میں عوام کی اور چیخیں نکلوادیں گے۔

1782106_10152048277967933_971771966_n

No Comments

    راقب